کبھی کبھی انسان اس لیے خاموش نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہوتا، بلکہ اس لیے خاموش رہتا ہے کہ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اس کی بات سننے والا کوئی نہیں۔ وہ اپنے دل کا بوجھ لیے لوگوں کے درمیان مسکراتا رہتا ہے، مگر اندر ہی اندر بکھرتا رہتا ہے۔ اسے بس ایک ایسے شخص کی تلاش ہوتی ہے جو اس کی خاموشی کے پیچھے چھپی چیخ سن سکے۔
دل چاہتا ہے کوئی پوچھے کہ آخر اتنے خاموش کیوں ہو، مگر خوف یہ ہوتا ہے کہ اگر دل کا حال بیان کرنے بیٹھ گئے تو شاید لفظ ساتھ نہ دیں اور جواب دیتے دیتے آنکھیں بھر آئیں۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں بیان کرنا بھی ایک نئی اذیت بن جاتا ہے۔ اس لیے انسان خاموش رہتا ہے، مسکراتا ہے اور سب کو یہی دکھاتا ہے کہ وہ ٹھیک ہے، حالانکہ حقیقت میں وہ صرف خود کو سنبھال رہا ہوتا ہے۔